منگلورو:4/ جون (ایس اؤ نیوز )ملک کے 75فی صد شہری گائے کا گوشت کھانے والے ہیں، دستوری طورپر عوام کے غذائی حق کو چھیننے کا کسی کو حق نہیں ہے، ان باتوں کا اظہار بنگلورو کے سعدیہ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے جنرل سکریٹری کے ایم شافعی نے کیا۔ وہ یہاں شہر میں سنی اسٹوڈنٹس فیڈریشن ( ایس ایس ایف )کے زیر اہتمام ڈی سی دفتر کے روبرو مرکزی حکومت کے انسداد گائے ذبیحہ قانون کی مخالفت میں منعقدہ احتجاجی جلسہ سے خطاب کررہے تھے۔
موصوف نے اپنے خطاب میں کہا کہ ملک کے عوا م کو کیا کھانا ہے ،کیا پہننا ہے اس کا فیصلہ خود عوام کریں گے ، اس معاملے میں وہ آزاد ہیں، یہ غلط خیال ہے کہ صرف مسلمان ہی گائے کا گوشت کھاتے ہیں، ملک کے 75فی صد عوام کی غذا گائے کا گوشت ہے، ان حالات میں مرکزی حکومت صرف ایک چھوٹے سے طبقہ کی خوشنودی کے لئے گائے ذبیحہ قانون کو جاری کرنےکی کوشش کرنا قابل مذمت ہے ۔
دلت لیڈر شیکھر ایل نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ گائے دیو ی ہے یا نہیں پتہ نہیں ، لیکن وہ میری غذا ضرورہے،دلت صدیوں سے گائے کا گوشت کھاتے آئے ہیں، انہوں نے کہا کہ اقتدار پانے کے لئے ہی دستور پر عمل ضروری نہ ہو بلکہ غذائی حق کی حفاظت کے لئے بھی دستور کا استعمال کرنا ضروری ہے۔ جو لوگ گائے کو ہماری دیوی بتاکرانہی دیویوں کو کاٹ کر بیرونی ممالک کو برآمد کررہے ہیں، یہ بڑے شرم کی بات ہے۔
سابق میئر کے اشرف نے بھی موقع کی مناسبت سے خطاب کیا۔ ایس ایس ایف دکشن کنڑا ضلع صدر سراج الدین سخافی کنیان نے پروگرام کی صدارت کی۔ ایس وائی ایس کے ریاستی سکریٹری ڈی کے عمر سخافی ، ایس ای ڈی سی صدر کے ایم کامل سخافی ، ایس جے ایم کے سلیمان سخافی ، حافظ یعقوب سعدی ناؤوروغیرہ موجود تھے۔ احتجاجی جلسہ کے بعد منتظمین کا ایک وفد ڈی سی سے ملاقات کرتے ہوئے ان کے توسط سے صدر ہند اور وزیر اعظم کو میمورنڈم پیش کیا۔